پی ٹی آئی رہنما علی محمّد خان اور جواد احمد کے درمیان جنگ چھڑ گئی
پی ٹی آئی رہنما علی محمّد خان اور جواد احمد کے درمیان جنگ چھڑ گئی
![]() |
| Picture source google.com |
معروف گلوگار جواد احمد کا پی ٹی آئی لیڈر علی محمّد خان کو ٹویٹ
علی محمد صاحب۔ آپ نے بڑی اچھی زبان میں کئی ایسی باتیں کی ہیں جو سراسر غلط ہیں مگر چونکہ آپ کا اسلوب اپنے منافق قائد عمران کی طرح بدزبانی اور گالم گلوچ کا نہیں ہے اس لیے میں بھی آپ سے احترام کے ساتھ بات کروں گا۔
آپ میرے عمران جیسے فراڈیے کے بارے میں صحیح اور موزوں الفاظ بولنے پر کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ عمران خود وہ غلیظ آدمی ہے جو جعلی اکڑ میں آ کر اپنی پبلک تقریر میں ایک عورت کو یہ کہتا ہے کہ وہ اس کا نام پیار سے نہ لیا کرے کہ کہیں اس کا خاوند ناراض نہ ہو جاۓ۔ ایسے گھٹیا آدمی کو آپ اپنا لیڈر کہہ رہے ہیں؟ میں مریم نواز شریف کو PTI اور PPP کی طرح سرمایہ داروں، جاگیرداروں، مافیاز، پیر خانوں، سرداروں اور وڈیروں کی ایک اور اکثریتی جماعت PMLN کی لیڈر سمجھتا ہوں جن لوگوں سے ہماری برابری پارٹی کی سیاسی لڑائی ہے مگر میں ایک عورت کے لیے ایسی زبان استعمال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
میں نے کبھی عمران یا کسی اور کو بھی میڈیا یا سوشل میڈیا پر گالی نہیں نکالی۔ میرا نام عمران خان نہیں جواد احمد ہے۔ میں تو اپنی ذاتی زندگی میں بھی نہ کسی کو گالی دیتا ہوں اور نہ سنتا ہوں جس کے گواہ میرے دوست اور رشتے دار ہیں۔ اس کے برعکس عمران ساری عمر اپنی ذاتی زندگی میں گالم گلوچ اور بدزبانی کرتا رہا ہے جس کے گواہ بہت سے کرکٹر، صحافی، اس کے دوست اور رشتے دار ہیں۔ آپ ایسے بدگو آدمی کو اپنا لیڈر کہتے ہیں؟
میں عمران یا کسی بھی اور مکار اور منافق آدمی کے بارے میں صرف سخت الفاظ بولتا ہوں گالی نہیں دیتا۔ میں ایسے الفاظ بولتا ہوں جو ایسے فراڈیوں کا اصل وصف ظاہر کرتے ہیں جو میری قوم کو پاگل بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی کی اصلیت بتانے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہوتا۔ جن الفاظ کو میں گالی سمجھتا ہوں وہ سب سے زیادہ آپ کی پارٹی کے لوگ استعمال کرتے ہیں جس کی ترغیب اور شاباش انہیں عمران دیتا ہے۔ ان الفاظ میں لوگوں کے خاندانوں کے بارے میں گالم گلوچ اور بیہودگی کرنا، لوگوں کو جانوروں کے نام سے بلانا، لوگوں کی ذات اور پیشوں کے بارے میں بئہودگی کر، جنسی الفاظ بولنا اور جسمانی اعضا کے بارے میں بیہودہ الفاظ بولنا شامل ہیں۔ اپنی آنکھیں کھول کر دیکھیے کہ PTI کے تربیت یافتہ کتنے زیادہ لوگ خاص طور پر روز اس کام کے لیے منظم طریقے سے چھوڑے جاتے ہیں تاکہ اس طرح ان کے مخالفوں کو چپ کرایا جا سکے۔ عمران اور اس کے تربیت یافتہ سیاستدان، صحافی، یو ٹیوبر، وکلا اور سپورٹر جو زبان سوشل میڈیا، TV اور پرنٹ میڈیا پراستعمال کرتے ہیں وہ میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
ایک تازہ مثال شیر مروت کے بولے گۓ وہ الفاظ ہیں جو عمران کے بے شرم سپورٹر اب بار بار استعمال کر کے خوش ہوتے ہیں۔ میری تربیت مجھے اجازت نہیں دیتی کہ میں ایسا کروں اس لیے میں گالم گلوچ کیے بغیر جو بھی سخت الفاظ عمران کے لیے بول سکتا ہوں وہ بولتا ہوں تاکہ اس کی اصلیت لوگوں کو بتا سکوں۔ عمران میرے لیے اقتدار کا بھوکا ایک ایسا بوٹ پالشیا، احسان فراموش، جھوٹا اور مذہبی منافق ہے جو مسلسل مکاری سے اس قوم کے ساتھ فراڈ کر رہا ہے۔
اور میں تو یہ بیانیہ ہی غلط سمجھتا ہوں کہ کسی منافق کی ذاتی زندگی کے ایسے پہلوؤں پر بات نہیں کی جا سکتی جن سے اس کی منافقت کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ بیانیہ بھی عمران جیسے لوگوں نے بنایا ہے تاکہ لوگوں کے سامنے ان کی دوغلی اصلیت چھپی رہے اور وہ لوگوں کو پاگل بنا سکیں اور خود عیش کریں۔
خاص طور پر مذہبی منافقوں کی ذاتی زندگی کے تمام تضادات عوام کے سامنے آنے چاہییں تاکہ لوگ ان کے بارے میں صحیح راۓ بنا سکیں اور ان سے جذباتی دھوکہ نہ کھائیں۔ سیاسی لوگوں کی ذاتی زندگی کبھی بھی تنقید سے مبرا نہیں ہو سکتی جب مقصد ان کی منافقت اجاگر کرنا ہو۔ رہی یہ بات کہ میں عمران کو یہ سب کیوں کہتا ہوں تو وہ اس لیے کیونکہ میں اسے اس وقت پاکستان کا دشمن سمجھتا ہوں جو اپنی کرسی، ذاتی فائدوں اور اپنے خاندان کو کرپشن کی سزا سے بچانے کے لیے اس قوم میں نفرت، تقسیم اور فساد پیدا کر رہا ہے۔ گمراہ کن اور جھوٹے سازشی بیانیے بنا رہا ہے۔
اگر آج عمران منافق اپنی مکاری، بوٹ پالشی اور کرپشن سے پاکستان میں ایک مشہور لیڈر بن ہی گیا ہے تو کیا میں اس بات پر اس کی عزت شروع کر دوں؟ میں بالکل نہیں مانتا کہ دنیاوی عزت، شہرت، پیسہ، نام اور عہدہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے بلکہ یہ تو خدا کے نام پر بہت بڑا بہتان ہے۔ جس عزت کی خدا بات کرتا ہے وہ صرف اسکے اور اسکے بندے کے درمیان کا معاملہ ہوتا ہے اور اسکا صرف اسے پتا ہوتا ہے ورنہ زیادہ تر دنیاوی عزت والے لوگ میں نے نہایت گھٹیا ہی دیکھے ہیں۔ جب بھی اس موضوع پر بات کرنا چاہیں تو میں کسی بھی چینل پر یہ مباحثہ کرنے کو تیار ہوں۔
اور جی، آپ کی یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ میں آپ کی پارٹی کے نظریات کو پاکستان کی ترقی کے لیے نہایت مضر سمجھتا ہوں
۔
علی محمّد خان کا جوابی ٹویٹ
السلام علیکم پیارے بھائی !
میں ٹوئٹر یا دیگر سوشل میڈیا میں کبھی بھی جواب الجواب میں نہیں پڑتا نہ اس بار پڑونگا لیکن آج مناسب لگا کہ اپنے پیارے بھائی کو سلام کروں۔
بھائی لڑکپن میں آپ کا عارفانہ کلام سنتے تھے۔ آپ تب بھی جوان تھے اور ماشاءاللٰہ اب بھی - مجھے البتہ حوادث زمانہ اور اپنے لیڈر کیساتھ اپنے ملک کی خاطر سیاسی جدوجہد نے زرا وقت سے پہلے سفید ریش کردیا ہے۔ لیکن مجھے اپنے لیڈر اور اس کے ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد پہ فخر ہے اور زندگی میں اللّٰہ نے پھر موقع دیا تو میرا انتخاب دوبارہ بھی عمران خان اور تحریک انصاف ہی ہوگی۔
آپ کے سیاسی نظریات ہماری جماعت اور خان صاحب کے خلاف ہیں یہ فطری عمل ہے اور اس میں براماننے کی کوئی بات نہیں ہے ہر آدمی کو اپنے سیاسی نظریات رکھنے اور اخلاق کے دائرے میں فکری اختلاف کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ ایک بات البتہ ضرور عرض کرونگا کہ سیاسی اختلاف جب زاتی تنقید میں بدل جائے تو اس سے مکالمہ کی صحت مند فضا معدوم ہوکر دشنام طرازی میں تبدیل ہو جاتی ہے جو ایک صحتمند رجحان نہیں اور معاشرہ پہ اچھا اثر نہیں ڈالتی۔ اگر ہماری طرف سے کبھی ایسا ہوا ہے معزز بھائی کیساتھ تو پیشگی معزرت قبول کیجئیے آپ بڑے بھائی کی مانند ہیں لیکن خان صاحب کے بارے میں آپ کی رائے اکثر سیاسی تنقید کے لیول سے گر کر انتہائی ذاتیات کے زمرے میں آ جاتی ہے جس سے خان صاحب کی عزت میں تو کوئی کمی نہیں ہوتی کیونکہ آپ اور میں ہم سب بحیثیت مسلمان اس بات پہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ عزت ذلت کامیابی ناکامی و رسوائی سب اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لیکن اس سے آپ کی عزت میں اضافہ نہیں ہوتا۔ نوجوانوں میں مثبت فکری تحریک لانے کی اشد ضرورت ہے۔ آپ اور میں اب بھی یوتھ لیڈرز ہی تصور کئیے جاتے ہیں۔ ہمیں معاشرہ میں مثبت اور فکری تنقید کے عمل کو فروغ دینا چاہئیے اور کوشش کرنی چاہئیے کہ نوجوانوں کو دشنام تراضی کے بجائے علمی بحث اور اُصولی اختلاف رکھنے کی ترغیب دیں ، لوگوں کو دلیل سے قائل کریں نہ کہ گالی سے اور اپنے بدترین سے بدترین مخالف کو بھی اپنے اخلاق سے زیر کریں۔ اس سلسلہ میں ہمارے لئیے مشعل راہ سرکار دو عالم خاتم النبیین حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی ذات اور ان کا اُسوہ حسنہ و اخلاق ہیں ۔ ان کی جب تعریب قرآن عظیم الشان میں اللّٰہ کریم نے فرمائی تو کچھ ایسا کہا کہ
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(سورت قلم آیت نمبر 4)
ترجمہ : اور بیشک تم یقینا عظیم اَخلاق پر ہو۔
پیارے بھائی !
میں نے آج تک کسی کو کسی کی عزت سے کھیلنے کے بعد معزز ہوتے نہیں دیکھا۔
دعاؤوں کا طالب اور آپ کا بھائی۔
علی۔

Comments
Post a Comment